roman urdu me padhne ke liae click here
باسم الحی الذی لا یموت
یا صاحب الزمان ادرکنا
آه! اخلاق اور شاعری کے پیکر ولی بهائی
کل یہ افسوسناک خبر موصول ہوئی کہ ہندوستان کے علمی گھرانے سے تعلق رکھنے والے ، معروف و ممتاز عالم حجت الاسلام والمسلمین سید شمیم الحسن صاحب قبلہ (بنارس) کے بھائی اور شعر و سخن سے شغف رکھنے والے کہنہ مشق شاعر و محقق اور مترجم حجت الاسلام عالی جناب مولانا سید ولی الحسن صاحب (رحمت اللہ علیہ) کا انتقال پر ملال ہو گیا۔
اس دور میں جب شعر و شاعری کے فن و اسلوب اور معیاری شاعری کی طرف بعض شاعروں کی کوئی خاص توجہ نہیں یا بہت کم ہے، سطحی و عامیانہ خیالات ذہنوں پر چھائے ہوئے ہیں اور اس مقدس فن کو اپنی کمائی اور شہرت کا ذریعہ بنا رکھا ہے، ایسے میں مرحوم بعض دینی طلباء کے اردو اشعار کی اصلاح کرنے والے اور بہتر رہنما تھے۔
شعر و شاعری کے متخصص سمجھے جاتے تھے، اس کے متعلق مسائل میں طلباء ان سے رجوع کرتے تھے، شعری نشستوں میں ان کی شرکت باعث فخر اور اس نشست کی کامیابی سمجھی جاتی تھی۔
اگرچہ مرحوم قم مشرفہ ایران میں سکونت پذیر تھے لیکن آپ کے علم اور شعر کے فیض سے قم مقدسہ ایران کے علاوہ دوسرے ممالک کے مومنین بھی فیض یاب ہوتے تھے۔
شعراء غاوین کی طرح نہ تھے جو «فِي كُلِّ وَادٍ يَهِيمُونَ» (ہر بیابان میں بھٹکتے پھرتے ہیں) کے مصداق ہیں۔
شاعرانہ تخیلات میں کبھی ادھر اور کبھی ادھر بھٹکتے ہیں، وادی وادی میں داد و تحسین شعری کے لۓ مارے مارے پھرتے ہیں۔
اوصاف حمیدہ اور اخلاق کریمانہ سے مرحوم متصف تھے، اخلاق آپ کا طرۂ امتیاز تھا، ایک دوسرے سے خوش روئی اور خندہ پیشانی سے پیش آتے تھے، اخلاق حسنہ ولی بھائی کا وصف عالی تھا۔
تمام انسانوں، مسلمانوں بالخصوص عالم دین کو عمل کے ساتھ ساتھ خوش اخلاق بھی ہونا چاہیۓ کیونکہ خوش اخلاق شخص کو لوگ محبوب رکھتے ہیں۔ اس کی کامیابی کا راز خوش اخلاقی ہے جس سے دوسروں کے دل جیت سکتا ہے اس کی بات بہت جلدی مان لی جاتی ہے، جس سے دین و انسانیت کا فائدہ ہوتا ہے۔
افسوس صد افسوس آج وہ شاعری اور اخلاق، سادگی، تواضع اور پیارو محبت کا پیکر نہ رہا۔
خدا سے بحق چودہ معصومین (صلوات اللہ وسلامہ علیہم) دعا ہے کہ وہ ہم کو اخلاق حسنہ کی توفیق مرحمت فرمائے اور برے اخلاق سے بچائے۔
رب العزت مومنین کو ایسے عالم کا بہترین نعم البدل عطا فرمائے، ان کے خدمات کو شرف قبولیت عطا فرمائے اور جملہ اعزا، اقربا، دوست و احباب علی الخصوص ان کی اولاد، احفاد اور اہلیہ کو صبر جمیل و جزیل کی توفیق دے۔
شریک غم
سید شمشاد علی کٹوکھری
خادم ادارۂ دارالعترت حوزہ علمیہ قم مقدسہ ایران
2 شوال 1446ہجری قمری
No comments:
Comment